ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کرناٹک: سرکاری کالجوں میں حجاب پر پابندی کے بعد اب بی جے پی کی نظر مدرسوں پر، پابندی عائد کرنے وزیر اعلیٰ کو دیا گیا میمورنڈم

کرناٹک: سرکاری کالجوں میں حجاب پر پابندی کے بعد اب بی جے پی کی نظر مدرسوں پر، پابندی عائد کرنے وزیر اعلیٰ کو دیا گیا میمورنڈم

Sun, 27 Mar 2022 07:09:52    S.O. News Service

بنگلورو،27؍مارچ (ایس او نیوز؍ایجنسی) کرناٹک میں بی جے پی کے زیر اقتدار  ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان تفریق پیدا کرنےاور مسلمانوں کے خلاف نفرت پیدا کرنے ایک کے بعد ایک نئے تنازعے سامنے آ رہے ہیں۔

حجاب تنازعہ کے بعد مندروں کے میلوں میں مسلم دکانداروں پر پابندی لگائی گئی، اور اب ریاست میں مدرسوں پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ یہ مطالبہ بی جے پی رکن اسمبلی رینوکاچاریہ نے وزیر اعلیٰ بسوراج ایس بومئی اور وزیر تعلیم بی سی ناگیش سے کیا گیا ہے۔ انھوں نے دعویٰ کیا ہے کہ مدارس میں ملک مخالف اسباق پڑھائے جاتے ہیں اس لیے ان پر پابندی لگنی چاہیے۔

رینوکاچاریہ کا کہنا ہے کہ ’’کیا ایسے اسکول نہیں ہیں جہاں سبھی مذاہب کے طالب علم پڑھ رہے ہیں؟ ان کے مطابق مدرسوں میں ملک مخالف مواد پڑھایا جاتا ہے، اس پر پابندی عائد کی جانی چاہیے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ حجاب معاملے پر کچھ ملک مخالف تنظیموں نے کرناٹک بند کی اپیل کی ہے، کیا حکومت اسے برداشت کر سکتی ہے؟ رینوکاچاریہ نے اس بات پر حیرت بھی ظاہر کیا کہ ملک مخالف تنظیموں کے کرناٹک بند کا کانگریس لیڈروں نے ایوان میں دفاع کیا ہے۔

واضح رہے کہ رینوکاچاریہ بی جے پی رکن اسمبلی ہونے کے ساتھ ساتھ وزیر اعلیٰ بومئی کے سیاسی سکریٹری بھی ہیں۔ اس سے پہلے بھی رینوکاچاریہ متنازعہ بیان دیتے رہے ہیں۔ ایک بار انھوں نے پرینکا گاندھی کے ایک ٹوئٹ کے جواب میں کہا تھا کہ کانگریس جنرل سکریٹری کا اپنے بیان میں ’بکنی‘ جیسے لفظ کا استعمال کرنا ایک نچلی سطح کا بیان ہے۔ کالج میں پڑھتے وقت بچوں کو پوری طرح سے کپڑے پہنائے جانے چاہئیں۔ آج خواتین کے کپڑوں کی وجہ سے عصمت دریاں بڑھ رہی ہیں کیونکہ مردوں کو اکسایا جاتا ہے۔ یہی درست نہیں ہے۔ ہمارے ملک میں خواتین کا احترام کیا جاتا ہے۔

دراصل کانگریس جنرل سکریٹری نے ٹوئٹ میں کہا تھا کہ چاہے وہ بکنی ہو، گھونگھٹ ہو، جینس کی ایک جوڑی ہو یا حجاب، یہ طے کرنا ایک خاتون کا حق ہے کہ وہ کیا پہننا چاہتی ہیں۔ خواتین کو پریشان کرنا بند کرو۔


Share: